شیعہ، سنی، ہندو، صوفی، سکھ یا کوئی اور ہوں ہندوستان میں وہ ایک دوسرے کا احترام کرتے ہیں۔ کلمہ کی بنیاد پر مسلمانوں میں اتحاد کی وکالت کرتے ہوئے ایران کے صدر نے کہا کہ جو شخص بھی کلمہ گو ہے اور کعبۃ اللہ کو ا پنا قبلہ مانتا ہے اسے کافر نہیں کہا جاسکتا۔ اللہ، رسول، قرآن اور اہل بیت کو ماننے والے مسلمان ہیں۔ دنیا بھر میں کلمہ گو مسلمانوں میں اتحاد وقت کی اہم ضرورت ہے۔ ایران تمام اسلامی ممالک میں اتحاد کا خواہاں ہے۔ ہم دنیا کے کسی بھی ملک کے ساتھ دوری نہیں چاہتے۔ مسائل کا حل بندوق یا جنگ نہیں بلکہ مذاکرات ہیں۔ باہمی مسائل کو فوج سے نہیں بلکہ ان کا سیاسی حل تلاش کیا جاسکتا ہے۔ نوجوانوں کو اسلام سے واقف کرانے اور والدین کے احترام کا درس دینے کی تلقین کرتے ہوئے ڈاکٹر حسن روحانی نے کہا کہ آج کی نوجوان نسل موبائل فون اور اسمارٹ فون میں کھوچکی ہے۔ 24 گھنٹوں میں وہ بمشکل ایک گھنٹہ بھی اپنے والدین کیلئے نکال نہیں سکتے۔
اسمارٹ فون نے دنیا کو سمیٹ دیا ہے لیکن اس ٹیکنالوجی کا استعمال مثبت انداز میں ترقی کے لیے ہو۔ ایرانی صدر کے ہمراہ وزیر خارجہ جواد ظریف اور دیگر وزراء اور اعلی عہدیدار موجود تھے۔ ہندوستان میں آیت اللہ خامنہ ای کے نمائندے آقا مہدی مہدوی پور، شیخ الجامعہ مولانا مفتی خلیل احمد اور ڈاکٹر نثار حسین حیدر آغا نے بھی مخاطب کیا۔ اس موقع پر مولانا قبول پاشاہ قادری، قائد اپوزیشن محمد علی شبیر، نیوز ایڈیٹر سیاست جناب عامر علی خان، صدرنشین تلنگانہ وقف بورڈ محمد سلیم، رکن قانون ساز کونسل امین الحسن جعفری کے علاوہ علماء و مشائخین، ذاکرین کی کثیر تعداد موجود تھی۔


















