انہوں نے علم کے حصول اور خاص طور پر عصری ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ ہونے کا مشورہ دیا اور کہا کہ ایک زمانہ وہ تھا جب ٹیکنالوجی میںمسلم ممالک کا کوئی ثانی نہیں تھا لیکن مغرب نے ہم سے ٹیکنالوجی حاصل کرلی اور اسی ٹیکنالوجی کو بھاری قیمت پر ہمیں واپس فروخت کررہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مغرب کا رویہ ترقی پذیر اسلامی ممالک کے ساتھ انصاف پر مبنی نہیں ہے۔
انہوں نے ایشیائی اور افریقی ممالک کو علوم جدید میں مہارت حاصل کرنے کا مشورہ دیا اور کہا کہ ہم صلاحیتوں میں کسی سے پیچھے نہیں ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ عصری ٹیکنالوجی کے حصول پر توجہ دی جائے۔ انہوں نے کہا کہ ترقی یافتہ ممالک نے مسلمانوں کو اختلافات کا شکار کردیا ہے۔ عراق میں اہل سنت، شیعہ اور کرد متحد تھے۔
اسی طرح شام میں بھی تمام مسلکوں میں اتحاد برقرار تھا لیکن مغربی طاقتوں نے ہمیں آپس میں ایک دوسرے کے خون کا پیاسا بنادیا ہے۔ ہندوستان کی تعریف کرتے ہوئے ڈاکٹر حسن روحانی نے کہا کہ یہ ملک مختلف مذاہب کا گہوارہ اور مختلف ادیان و عقائد کا گلدستہ ہے۔ ہزاروں برسوں سے تمام مذاہب باہم شیر و شکر اور محبت اور بھائی چارہ سے زندگی بسر کررہے ہیں۔


















