انہوں نے کہا کہ آج کے نوجوان نسل میں جب تک اسلامی تعلیمات کو عام نہیں کیا جاتا اس وقت تک ہم مغربی طاقتوں کی مخالف اسلام اور مسلم سازشوں کا مقابلہ نہیں کر پائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اسلام دنیا بھر کے لیے نجات کا واحد راستہ ہے اور وہ ایک مکمل سیاسی، سماجی اور انصاف پر مبنی نظام کی تشکیل کی صلاحیت رکھتا ہے۔
اسلام کسی ایک دور کے لیے نہیں بلکہ یہ تاقیامت ساری انسانیت کے لیے مشعل راہ ہے اور زندگی کے ہر شعبہ میں رہنمائی کرتا ہے۔ ترقی کے سلسلہ میں مسلم ممالک پر مغرب کے دبائو کا حوالہ دیتے ہوئے ڈاکٹر حسن روحانی نے امریکہ اور دیگر ممالک کا نام لیے بغیر کہا کہ ایران محبت اور دوستی کا خواہاں ہے اور وہ اپنے حقوق کے تحفظ کی صلاحیت رکھتا ہے۔
کسی بھی مسئلہ پر وہ مصالحت اور مذاکرات کے لیے تیار ہے۔ مغرب کو یہ جان لینا چاہئے کہ ایران کو طاقت یا کسی اور طریقہ سے ڈرایا یا جھکایا نہیں جاسکتا۔ ڈاکٹر حسن روحانی نے اپنی تقریر کے آغاز میں حیدرآباد اور ایران کے درمیان تاریخی روابط اور ثقافتی تعلقات کا بطور خاص ذکر کیا اور کہا کہ یہ تعلقات سیاسی اور اقتصادی تعلقات سے بالاتر ہیں۔


















