انہوں نے ہندوستان اور ایران کے باہمی مضبوط روابط اور مختلف شعبوں میں تعاون کا حوالہ دیا اور کہا کہ گزشتہ 40 برسوں سے دونوں ممالک کے عوام کے دوستانہ تعلقات اٹوٹ ہیں۔ میں تاریخی شہر حیدرآباد میں ایرانی عوام کے دوستی، محبت اور برادری کے پیام کے ساتھ اپنے دورۂ ہندوستان کا آغاز کررہا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ امربالمعروف اور نہی عن المنکر کے فریضہ کی انجام دہی ہر مسلمان پر لازم ہے۔ ہمیں اسلام، قرآن اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کے پیام کو دنیا میں عام کرنا ہوگا۔ صدر ایران حسن روحانی نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کی حدیث مبارکہ کا حوالہ دیا جس میں کہا گیا کہ کوئی بھی مظلوم مدد کے لیے آواز دے تو اسلامی تقاضہ ہے کہ مدد کی جائے۔
انہوں نے کہا کہ مدد کا طلب گار چاہے کسی بھی مذہب سے ہو، اسلام کا تقاضہ ہے کہ ہم اس کے لیے کھڑے ہوں اور مدد سے انکار غیر اسلامی عمل ہے۔ دینی اور انسانی اعتبار سے ہم ایک دوسرے کے بھائی ہیں۔ طاقتور ممالک کی جانب سے کمزور اور ترقی پذیر ممالک کو کچلنے اور ان پر جنگ مسلط کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے حسن روحانی نے کہا کہ جنگ کا وجود خود ظلم پر مبنی ہوتا ہے۔ کسی ملک پر جنگ مسلط کردی جائے تو عوام اپنی دفاع کے لیے مجبور ہوتے ہیں اور قرآن مجید نے دفاع کی اجازت دی ہے۔


















