وزارت داخلہ نے ان باشندوں کو یقین دلایا ہے کہ ان کی شہریت کا حتمی فیصلہ ہونے تک ان کے خلاف کوئی کاروائی نہیں کی جا ئے گی۔
حکومت نے یہ بھی یقین دلایا ہے کہ حکام جواب داخل کرنے میں ان کی مدد کریں گے اور ان کے کاغذات کی تفصیل سے چھان بین کی جائے گی۔
این آر سی کی فہرست جاری ہونے کے بعد ریاست کے بنگالی نژاد شہریوں کی آبادیوں میں مایوسی پھیل گئی ہے۔
اگرچہ این آر سی نے ابھی اس کی کوئی تفصیل جاری نہیں کی ہے کہ یہ 40 لاکھ افراد کون ہیں لیکن یہاں بنگالی بولنے والنے باشندوں کو خدشہ ہے کہ وہ شہریت کے تنازعے کی زد میں ہیں۔