ان کے مطابق ‘الیکشن کمیشن اور بارڈر پولیس کسی کو غیر ملکی اور مشکوک قرار دینے سے پہلے عموماً تفتیش نہیں کرتی۔ اگر کوئی کاغذات جمع کرواتا بھی ہے تو وہ انھیں ملزم قرار دے کر غیر ملکی ٹرائبیونل بھیج دیتےہیں۔ زیادہ تر لوگ پڑھے لکھے نہیں ہیں، غریب ہیں، انھیں انصاف تک رسائی حاصل نہیں ہے۔ وہ ٹرائبیونل میں اپنا کیس لڑ نہیں پاتے۔‘
اقوام متحدہ کے حقوق انسانی کے ادارے نے گذشتہ مہینے این آر سی کے عمل پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے انڈیا کی حکومت کو لکھا تھا کہ ’شہریوں کی فہرست بنانے کا مقصد انڈین شہریوں کو اس میں شامل کرنا ہے لیکن بہت سے حلقوں میں یہ تشویش ظاہر کی گئی ہے کہ مقامی حکام جو اکثر مسلمانوں اور بالخصوص بنگالی نژاد لوگوں کو ناپسند کرتے ہیں وہ انھیں شہریت کی فہرست سے باہر رکھنے کے لیے جانچ پڑتال کے عمل میں دھاندلی کرسکتے ہیں۔‘
اقوام متحدہ نے انڈین حکومت سے یہ بھی پوچھا ہے کہ جن لوگوں کو شہریوں کی فہرست میں شامل نہیں کیا جائے گا کیا انھیں حراستی کیمپوں میں قید کیا جائے یا انھیں ملک بدر کر دیا جائے گا۔
دارالحکومت گوہاٹی میں این آر سی کے صدر دفتر سے کچھ ہی فاصلے پر انڈین فضائیہ کے سبکدوش اہلکار سعد اللہ احمد اپنی فیملی کے ساتھ این آر سی کی فہرست کا بہت بے صبری اور بے چینی سے انتظار کر رہے ہیں۔
اس فہرست میں اگر ان کا اور ان کی بیوی بچوں کا نام شامل نہیں رہا تو وہ غیر ملکی قرار دیے جائيں گے۔ ان کا 15 برس کا بیٹا سب سے زیادہ پریشان ہے۔
سعد اللہ اور ان کی فیملی کے سبھی لوگ انڈین شہری ہیں لیکن ان کی ایک بہن کو شادی کے بعد متضاد تاریخ پیدائش درج کرنے سے ٹرائبیونل نے انھیں غیر ملکی قرار دیا ہے۔