وہ اپنے دعوے انھی حکام کو پیش کریں گے جنھوں نے انھیں شہریت سے محروم کیا ہو گا۔
آسام کی تین کروڑ 29 لاکھ کی آبادی میں تقریباً 90 لاکھ بنگالی نسل کے لوگ شامل ہیں جن میں مسلم بنگالیوں کی اکثریت ہے۔
یہ بنگالی نژاد گذشتہ 100 برسوں کے دوران یہاں آ کر آباد ہوئے ہیں۔ بی جے پی اور ریاست کی کئی علاقائی جماعتوں کا کہنا ہے کہ یہاں لاکھوں بنگلہ دیشی غیر قانونی طور پر آ کر بس گئے ہیں۔
آسام میں بنگالی تارکینِ وطن کے خلاف کئی بار تحریک چلی اور تشدد بھی ہوا ہے۔
نیشنل رجسٹر آف سٹیزنز یعنی شہریوں کی فہرست بنانے کا فیصلہ شہریت کے اس تنازعے کو ہمیشہ کے لیے حل کرنے کی غرض سے کیا گیا ہے۔
لیکن شہریوں کو غیر ملکی قرار دینے کے عمل اور طریقے کے بارے میں کئی حلقوں سے سوالات اٹھے ہیں۔
حکومت نے ابھی تک اپنی پالیسی واضح نہیں کی ہے کہ ان لوگوں کے ساتھ وہ کیا کرے گی جنھیں شہریت اور قومیت سے محروم کر دیا جائے گا۔
گوہاٹی ہائی کورٹ کے سرکردہ وکیل امن ودود کا کہنا ہے کہ ریاست میں شہریوں کو ‘مشکوک’ اور ‘غیر ملکی’ قرار دینے کا عمل بہت ہی یکطرفہ ہے۔