آسام اس وقت شدید بے یقینی کی گرفت میں ہے۔ ریاست کے بنگالی بولنے والے بہت سے لوگوں کو خدشہ ہے کہ انھیں شہریت سے محروم کیا جا سکتا ہے۔
مختلف علاقوں میں بڑی تعداد میں سکیورٹی افواج تعینات کی گئي ہیں۔ سیاسی جماعتوں نے لوگوں سے امن قائم رکھنے کی اپیل بھی کی ہے۔
ریاست میں شہریت کے اندراج کے لیے تین کروڑ 29 لاکھ افراد نے درخواستیں اور کاغذات جمع کروائے تھے۔ شہریوں کی پہلی فہرست جنوری میں جاری کی گئی تھی جس میں ایک کروڑ 90 لاکھ لوگوں کے نام شامل تھے۔
حکومت نے کہا ہے کہ جن لوگوں کے نام اس فہرست میں نہیں انھیں اپنا جواب داخل کرنے کے لیے ستمبر تک کا وقت دیا جائے گا تاہم انھیں عدالت میں اپیل کرنے کی اجازت نہیں ہو گی۔