آسام میں شہریوں کے تعین کے جو ضابطے طے کیے گئے ہیں ان کے مطابق اگر فیملی کا ایک بھی شخص غیر ملکی قرار پاتا ہے تو پوری فیملی شہریوں کی فہرست سے باہر ہو جائے گی۔
سعد اللہ کہتے ہیں ‘میں نے 20 برس تک فضائیہ میں رہ کر ملک کی خدمت کی۔ میری کئی نسلیں یہیں پیدا ہوئیں اور بڑھیں۔ میرے تین بھتیجے فوج میں ہیں۔ میں نے کبھی یہ نہیں سوچا تھا کہ مجھے اپنے ہی ملک میں غیر ملکی قرار دیے جانے کا سامنا کرنا پڑے گا‘۔
مرکزی حکومت نے یقین دہانی کرائی ہے کہ جن افراد کے نام اس فہرست میں شامل نہیں ہوں گے انھیں فوری طور پر کسی پریشانی کا سامنا نہیں ہو گا، ان کے خلاف کوئی کاروائی نہیں کی جائے گی۔
سیاسی جماعتوں نے بھی لوگوں سے پرسکون رہنے کی اپیل کی ہے۔ حکومت نے واٹس ایپ اور فیس بک جیسے سوشل میڈیا اور انٹرنٹ پر افواہوں اور جھوٹی خبریں روکنے کے لیے ضروری اقدات کیے ہیں۔
ریاست کے مختلف اضلاع بالخصوص بنگالی نژاد آبادیوں والے اضلاع میں نیم فوجی دستے تعنیات کر دیے گئے ہیں۔