انھوں نے کہا کہ ڈی ایل اے محکمے میں اپنے سائز اور پیچیدہ نوعیت کے اعتبار سے پہلی ایجنسی ہے جس کا آڈٹ ہوا ہے اور ‘ابتدائی مراحل میں ادارے کو بالکل صاف شفاف آڈٹ اندازے کی امید نہیں تھی۔’
انھوں نے کہا کہ دوسری جنگ عظیم کے دوران قائم کی جانے والی ایجنسی نے پہلے ہی بہتری کے لیے کئی اقدام کیے ہیں۔
















/odishatv/media/media_files/2026/04/19/billionaire-entrepreneur-2026-04-19-23-55-02.jpg)


