حیران کن بات یہ ہے کہ تینوں واقعات پر فوج اور ریاستی پولیس کا کہنا ہے کہ مہلوکین جنگجوؤں اور سیکورٹی فورسز کے مابین ہونے والی فائرنگ کی زد میں آکر اپنی جانیں گھنوا بیٹھے ۔ ان شہری ہلاکتوں کے خلاف علیحدگی پسند قیادت نے جمعہ کو نماز کی ادائیگی کے بعد احتجاج کی کال دی تھی۔
سرکاری ذرائع نے بتایا کہ شہر میں امن وامان کی فضا کو برقرار رکھنے کے لئے شہر کے نوہٹہ، صفا کدل ، ایم آر گنج، خانیار، صفا کدل، کرال کڈھ اور مائسمہ پولیس تھانوں کے تحت آنے والے علاقوں میں دفعہ 144 سی آر پی سی کے تحت پابندیاں نافذ کی گئی تھیں۔
انہوں نے بتایا ‘ان پابندیوں کے نفاذ کا خالص مقصد امن وامان کی صورتحال کو برقرار رکھنا تھا’۔تاہم اس دعوے کے برخلاف پائین شہر کے مختلف حصوں بالخصوص نوہٹہ میں جمعہ کی صبح سے ہی کرفیو جیسی پابندیاں نافذ رہیں جن کے ذریعے ایسے علاقوں میں شہریوں کی نقل وحرکت محدود کردی گئی۔