حریت کانفرنس (ع) چیئرمین میرواعظ جو ہر جمعہ کو نماز کی ادائیگی سے قبل تاریخی جامع مسجد میں نمازیوں سے خطاب کرتے ہیں، کو گذشتہ شام اپنی رہائش گاہ پر نظربند کیا گیا جبکہ جموں وکشمیر لبریشن فرنٹ (جے کے یل ایف) چیئرمین محمد یاسین ملک کو جمعہ کی صبح اپنے گھر سے حراست میں لیکر سینٹرل جیل سری نگر منتقل کردیا گیا۔ میرواعظ نے اپنی نظربندی کی خبر ایک ٹویٹ میں بریک کرتے ہوئے کہا ‘مجھے ایک بار پھر نظربند کیا گیا ہے ۔
گذشتہ شام کو ہی مجھے خانہ نظربندی سے رہا کیا گیا تھا’۔ انہوں نے ایک اور ٹویٹ میں کہا ‘مسلم دشمن حکومت نے رواں برس میں 18 ویں بار جامع مسجد پر تالا لگادیا ۔ محبوبہ مفتی مسلمانان کشمیر کو نماز جمعہ کی ادائیگی سے روکنے اور پائین شہر میں پابندیاں نافذ کرنے کے ریکارڈ توڑنے میں لگی ہوئی ہیں’۔