تاہم دونوں موقعوں پر کشمیر انتظامیہ نے سری نگر کے مختلف حصوں بالخصوص پائین شہر میں پابندیاں نافذ کرکے جامع مسجد میں نماز جمعہ کی ادائیگی ناممکن بنائی۔ گذشتہ برس معروف حزب المجاہدین کمانڈر برہان مظفر وانی کی ہلاکت کے بعد اس تاریخی مسجد کو مسلسل انیس ہفتوں تک مقفل رکھا گیا تھا۔ 19 ویں صدی میں اس تاریخی مسجد کو سکھ حکمرانوں نے 1819 ء سے 1842 ء تک مسلسل 23 برسوں تک بند رکھا تھا۔
قابل ذکر ہے کہ وادی میں محض آٹھ دنوں کے اندر سیکورٹی فورسز کے ہاتھوں تین شہری ہلاکتوں کے واقعات رونما ہوئے ۔ مہلوکین میں دو جواں سال خواتین بھی شامل ہیں، جنہوں نے اپنے پیچھے دو شیرخوار بچیاں چھوڑی ہیں۔