اس تحریر کے مطابق جب فوٹوگرافر نے یہ تصویر اتاری اس وقت ’نوجوانوں کا ایک گروہ قہقہے لگا رہا تھا‘ اور ہاتھیوں پر ’ جلتے ہوئے گیند اور پٹاخے‘ پھینک رہا تھا۔
فوٹو گرافر بپلیب ہزرا کا کہنا تھا کہ اس وقت ہاتھی کے بچے کو کچھ سجھائی نہیں دے رہا تھا اور وہ پریشانی میں چیخ رہا تھا۔
ان کے بقول ’ اس ذہین، بھلے مانس اور معاشرتی تعلقات نبھانے والے جانور کے لیے برصغیر کا وہ علاقہ جہاں وہ صدیوں سے آزادانہ گھومتا پھرتا رہا ہے، اس کے لیے اب یہ جگہ جہنم بن چکی ہے۔‘