قبائلی رہنما اور داعش کے خلاف لڑنے والی َبدوی ملیشیا کے سربراہ نے خبر رساں ایجنسی ’اے ایف پی‘ کو بتایا کہ حالیہ حملے کا نشانہ بننے والی مسجد صوفیوں کی مجالس کے لیے پہچانی جاتی تھی۔
سینائی اور مصر کے دیگر حصوں میں داعش مسیحی گرجا گھروں کو بھی حملوں کا نشانہ بناچکی ہے جس میں 100 سے زائد مسیحی افراد ہلاک ہوئے۔