وہ کہتے ہیں کہ ایسے بھی کئی کیسز سامنے آئے کہ جن میں بچوں نے ٹی وی پر ریسلنگ، لڑائی یا دیگر پُرخطر کھیل کی نقل کے غرض سے خود کو چوٹ پہنچائی ہوتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ’بچوں کو اکثر ایسے رویوں کی نقل کرنے میں چھپے خطرات کا احساس ہی نہیں ہوتا اور یہ احساس تب جا کر ہوتا ہے جب چوٹ لگ چکی ہوتی ہے۔‘
ماہرین کہتے ہیں کہ ایسے مناظر ان نو عمر بچوں پر اثر ڈالتے ہیں کہ جو موت اور تشدد کے نتائج کو سمجھنے کے لیے ابھی پوری طرح بالغ ہی نہیں ہوتے۔ قائرہ میں واقع عین شمس یونیورسٹی کے ایسوسی ایٹ پروفیسر حشام رامے کہتے ہیں کہ، ’بچے یہ دیکھتے ہیں عمل کیسے کیا گیا، وہ اسے خطرناک نہیں سمجھتے اور غالب امکان ہے کہ وہ اس عمل کو دہرانے کی کوشش کریں۔‘
ممتاز ماہرِ نفسیات، ڈاکٹر فیصل مامسا کے مطابق، بچے روزانہ اوسطاً 2 سے 4 گھنٹے ٹی وی دیکھتے ہیں۔ اس دوران بچے مختلف نوعیت کے پُرتشدد مناظر دیکھتے ہیں۔