سدھیر کمارگوتم کو وہ لمحہ کبھی نہیں بھولتے جب سنہ 2011 کا عالمی کپ جیتنے کے بعد سچن تنڈولکر نے ظہیر خان کو بھیجا تھا کہ وہ سدھیر کمار گوتم کو بھارتی ڈریسنگ روم میں لے آئیں اور پھرسچن نے ورلڈ کپ ٹرافی سدھیر کے ہاتھوں میں تھما دی تھی۔
سدھیر کمار گوتم اپنے جسم پر بھارتی پرچم کے رنگ پینٹ کرکے ہاتھ میں پرچم لہراتے ہوئے دنیا کے ہر اس سٹیڈیم میں نظرآتے رہے ہیں جہاں بھارتی ٹیم کھیلی ہے۔ لیکن انھیں 2006 میں پاکستان کے دورے کی یادیں کبھی نہیں بھولتیں جب انھوں نے سائیکل کے ذریعے پاکستان جانے کی ٹھانی تھی لیکن انھیں واہگہ کی سرحد پر روک لیا گیا تھا۔
تاہم وہ کافی بحث وتکرار کے بعد اپنی سائیکل کو پاکستان کی سرزمین پر لانے میں کامیاب ہوگئے اور پھر وہ اس سائیکل پر پاکستان میں خوب گھومے پھرے اور پاکستانیوں کی مہمان نوازی سے بہت لطف اندوز ہوئے۔
سدھیر کمار گوتم سے میں نے پوچھا کہ کیا دوبارہ پاکستان آنے کا دل نہیں کرتا تو انھوں نے جواب دینے میں ذرا بھی دیر نہیں لگائی اور کہا ’کیوں نہیں کرتا۔ میری خواہش ہے کہ پاکستان اور انڈیا کے تعلقات میں بہتری آئے اور دونوں ٹیمیں دوبارہ ایک دوسرے کے ملک میں آنا جانا شروع کردیں اس سے اچھی اور کیا بات ہوسکتی ہے‘۔