آفریدی کے فلک شگاف چھکوں نے پاکستان کی ڈوبتی کشتی کو پار لگایا پاکستان اور بھارت کے درمیان ہونے والا میچ ہمیشہ ہی شائقین کو متوجہ کرتا ہے اور 2 مارچ 2014ء کو ہونے والا 12ویں ایشیا کپ کا یہ میچ بھی شائقین کی بھرپور توجہ حاصل کرنے میں کامیاب رہا۔ اس میچ میں پاکستان نے ٹاس جیت کر بھارت کو بیٹنگ کی دعوت دی۔ بھارت کی ٹیم مقررہ 50 اوورز میں 245 رنز بناسکی۔
بھارت کی اننگز کی خاص بات آخری نمبروں پر کھیلنے والے رویندرا جاڈیجا کی دھواں دھار بیٹنگ تھی۔ ایک موقع پر جب بھارت کے مایہ ناز کھلاڑی جلد آؤٹ ہوگئے تو ایسا لگ رہا تھا کہ بھارت کی ٹیم 200 سے زیادہ رنز نہیں بنا سکے گی، مگر جاڈیجا کی جانب سے صرف 49 گیندوں پر بنائے گئے 52 رنز نے بھارت کو ایک ایسے اسکور تک پہنچا دیا تھا جس کا دفاع ممکن تھا۔
پاکستان نے اس ہدف کا تعاقب تیز رفتاری سے کیا اور صرف 11 اوورز میں 71 رنز جوڑ لیے۔ اس موقع پر پاکستان کے جارحانہ بیٹنگ کے لیے مشہور اوپنر شرجیل خان آؤٹ ہوگئے۔ شرجیل خان کے بعد وکٹیں گرنے کا سلسلہ وقفے وقفے سے جاری رہا اور 113 رنز کے اسکور تک پہنچتے پہنچتے پاکستان کے 4 کھلاڑی آؤٹ ہوگئے۔ یہاں سے پاکستان کی اننگز کی کمان محمد حفیظ اور صہیب مقصود نے سنبھالی اور پاکستان کے اسکور کو 43 اوورز میں 200 رنز تک پہنچا دیا۔
اس موقع پر ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ پاکستان تو اب یہ میچ بغیر کسی مشکل کے جیت جائے گا لیکن کرکٹ کے کھیل نے ایک مرتبہ پھر اپنا رنگ دکھایا اور پاکستان کی وکٹیں ایک مرتبہ پھر خزاں رسیدہ پتوں کی طرح گرنے لگیں۔ پاکستان کو اگلے 36 رنز کے دوران 4 وکٹوں کا نقصان اُٹھانا پڑا۔
کھیل کے 50ویں اور آخری اوور میں پاکستان کو میچ جیتنے کے لیے 10 رنز درکار تھے اور شاہد آفریدی پاکستان کی امیدوں کا آخری مرکز تھے۔ پوری قوم ٹیلی ویژن سیٹس پر نظریں گاڑے آفریدی سے ایک بوم بوم کارکردگی کی توقع کر رہی تھی۔ ایشون نے 50ویں اوور کی پہلی گیند پر سعید اجمل کو آؤٹ کردیا۔ اس اوور کی دوسری گیند پر جنید خان نے ایک رن لے کر اسٹرائیک آفریدی کے حوالے کردی۔ پاکستان کو اب 4 گیندوں میں 9 رنز کی ضرورت تھی۔ آفریدی نے ایشون کی تیسری گیند کو باؤنڈری لائن سے باہر پھینک کر پاکستان کو منزل کی جانب موڑ دیا۔
اب 3 گیندوں پر 3 رنز درکار تھے جو بظاہر ایک آسان ہدف تھا لیکن پاکستان اپنی 9 وکٹیں کھو چکا تھا اور آفریدی آخری کھلاڑی کے ساتھ سنگل رن لینے کا رسک نہیں لے سکتے تھے۔ آفریدی خود بھی کھیل کی صورتحال کا جائزہ لے رہے تھے اور انہوں نے فیصلہ کیا کہ جو کچھ بھی کرنا ہے ان کو خود ہی کرنا ہے۔
شاہد آفریدی جیت کے بعد خوشی کا اظہار کررہے ہیں ایشون نے چوتھی گیند کروائی اور آفریدی نے اس پر لانگ آن کی جانب ایک زور دار شاٹ کھیلا۔ ایک لمحے کے لیے ایسا محسوس ہوا کہ گیند باؤنڈری پر کھڑے ہوئے فیلڈر کے ہاتھوں میں جائے گی لیکن درحقیقت گیند اس فیلڈر کے سر کے اوپر سے ہوتی ہوئی باؤنڈری کے پار جا گری۔ یوں ایک دلچسپ اور سنسنی خیز میچ پاکستان نے ایک وکٹ سے جیت کر ایشیا کپ 2014ء کے فائنل میں جگہ بنالی۔ پاکستان اس سال ایشیا کپ تو نہیں جیت سکا لیکن 2 روایتی حریفوں کے درمیان ہونے والا یہ میچ جیت کر انہوں نے اپنے مداحوں کو ایک بڑی خوشی دی۔
14ویں ایشیا کپ کا آج سے آغاز ہو رہا ہے۔ ایشیائی کرکٹ پر حکمرانی کی یہ جنگ 14 دن جاری رہے گی۔ بھارت کے مایہ ناز بیٹسمین ویرات کوہلی کی غیر موجودگی سے ٹورنامنٹ تھوڑا سا پھیکا ہوگیا ہے۔ کوہلی کی غیر موجودگی اور سری لنکا کی ناتجربہ کار ٹیم کی ٹورنامنٹ میں شرکت کے باعث پاکستان کے پاس ایک بہترین موقع ہے کہ وہ پہلی مرتبہ بنگلہ دیش کے باہر ایشیا کپ جیت سکے۔