پہلے کہا جارہا تھا کہ یہ کرنسی رواں سال کے آخر میں دس ہزار ڈالرز کی حد عبور کرسکے گی مگر موجودہ تیزی کو دیکھ کر تو کہا جاسکتا ہے کہ 2017 کے اختتام پر یہ 12 سے 15 ہزار ڈالرز تک بھی پہنچ سکتی ہے، یہی وجہ ہے کہ اب بڑے ادارے بھی اب اس میں سرمایہ کاری کے لیے تیار ہیں۔


















