یعنی ابتدائی دو ٹوئیٹس میں شرمین عبید چنائے نے اسے سرحدوں کی خلاف ورزی قرار دیا اور تیسرے میں اس واقعے کو ‘ہراساں’ کرنا کہا، جبکہ انہوں نے ڈاکٹر کے خلاف ایکشن لینے کا بھی کہا۔ دوسری جانب سوشل میڈیا پر یہ افواہ گردش کرنے لگی کہ اس متعلقہ ڈاکٹر کو آغا خان یونیورسٹی ہسپتال نے فارغ کر دیا ہے۔
اے کے یو انتظامیہ نے اس افواہ کی تصدیق یا تردید سے انکار کرتے ہوئے کہا ‘ آغا خان یونیورسٹی ہسپتال ہمیشہ راز داری کے اعلیٰ ترین معیار کو برقرار رکھتا ہے اور کبھی بھی کسی ملازم یا مریض کے بارے میں معلومات جاری نہیں کرتا’۔ دوسری جانب غیر مصدقہ رپورٹس میں یہ دعویٰ سامنے آ رہا ہے کہ ڈاکٹروں کو جانے دیا گیا ہے۔