اس سے پہلے ترک کے صدر رجب طیب اردوغان نے کہا کہ اگر ترکی نے خاشقجی قتل کیس کے مسئلے کو بارہا نہ اٹھایا ہوتا تو دنیا اسے فراموش کر چکی ہوتی ۔ انہوں نے کہا کہ ترکی کی انہیں کوششوں کی وجہ سے امریکی کانگریس نے یہ قرارداد منظور کیا کہ ایک خاص آدمی اس قتل کیس کا ذمہ دار ہے ۔ امریکی سینیٹ نے اپنی قرارداد میں بن سلمان کو اس قتل کا ذمہ دار قرار دیا ہے ۔
جمال خاشقجی کے قتل کا منصوبہ بناتے وقت منصوبہ سازوں نے شاید کبھی نہ سوچا ہوگا کہ اتنے خطرناک نتائج برآمد ہوں گے اس لئے کہ یمن پر جنگ مسلط کرنے اور وہاں 12 ہزار سے زائد بے گناہوں کے قتل عام پر ان منصوبہ سازوں کے خلاف کوئی بڑی کاروائی نہیں ہوئی اسی لئے ان کی جرات بڑھتی گئی اور اسی جنون میں انہوں نے وہ بڑی غلطی کر دی جو ممکنہ طور پر کئی رہنماؤں کا مستقبل تباہ کر دے گی ۔


















