اپنی جیت پر انھوں نے کہا ‘ماسٹر شیف چیمپیئن بننا زبردست ہے۔ تعریفی الفاظ اس خوشی کو بیان نہیں کرسکتے۔ میں نے اپنی زندگی میں سب سے بہترین کام یہی کیا ہے۔’ ‘اس میں بہت محنت شامل تھی۔ مجھے بہت جلدی کام شروع کرنا پڑتا تھا اور 13، 13 گھنٹوں کی شفٹوں کے بعد دیر گئے کھانے بنانے ہوتے تھے۔ اس بیچ نہ چھٹی ملتی تھی نہ نیند پوری ہوتی تھی لیکن یہ سب کچھ کرنے کا فائدہ ہی ہوا۔’
صالحہ کو کھانے پکانے کا شوق اپنے خاندان کی وجہ سے پڑا۔ ان کی ایک استانی نے بھی اس سلسلے میں ان کی حوصلہ افزائی کی اور 15 برس کی عمر میں انھیں ‘شیف آف دی ایئر’ کے مقابلے میں شامل کیا جو صالحہ نے جیت لیا۔ جمعہ کی رات بی بی سی ون پر فائنل مقابلے میں تین امیدواروں کو تین حصوں پر مشتمل کھانا تین گھنٹوں میں تیار کر کے ججز کو چکھنے کے لیے دینا تھا۔
جج گریگ ویلس نے صالحہ کے بنے ہوئے کھانے کی تعریف کرتے ہوئے کہا ‘مشرق و مغرب کا امتزاج’ اور ‘حیران کن پلیٹ پر فن کی خوبصورت تصویر۔’ جج جون ٹوروڈ نے کہا ‘صالحہ یہاں آئیں اور انھوں نے اپنے کھانے پینے کی ثقافت کو اجزا میں تقسیم کیا اور پھر انھیں جدید اور انتہائی زبردست انداز کے ساتھ پھر سے یکجا کر دیا۔’
صالحہ کو کھانے پکانے کا شوق اپنے خاندان کی وجہ سے پڑا۔ ان کی ایک استانی نے بھی اس سلسلے میں ان کی حوصلہ افزائی کی اور 15 برس کی عمر میں انھیں ‘شیف آف دی ایئر’ کے مقابلے میں شامل کیا جو صالحہ نے جیت لیا۔ ‘میرا تعلق ایک بڑی پاکستانی فیملی سے ہے اور ہم کھانوں کے ذریعے لوگوں کو یکجا کرتے ہیں۔ میری دادی اور نانی بڑی جذباتی تھیں اور روایتی پاکستانی کھانے پکاتی تھیں۔ میری امی بھی بہت اچھا کھانے پکاتی ہیں۔ ہمیں لوگوں کو کھانا کھلانا اچھا لگتا ہے۔ یہ ہمارے جینز میں ہے۔’
















/odishatv/media/media_files/2026/04/19/billionaire-entrepreneur-2026-04-19-23-55-02.jpg)


