پہلی جنگ عظیم کے بھڑکنے کے ساتھ ہی صورت حال تبدیل ہو گئی اور اکثر ممالک نے مسافروں کے لیے سکیورٹی وجوہات کے پیش نظر پاسپورٹ پر انحصار لازم قرار دیا۔ اس لیے کہ جاسوسی اور تخریب کاری کے خطرے سے بچاؤ کے لیے آنے والوں کی شہریت جاننا ضروری ہو گیا۔
پہلی جنگ عظیم کے اختتام کے بعد دنیا کے مختلف بڑے ممالک “عالمی طاقتوں” نے پاسپورٹ پر انحصار کیا۔
سال 1920ء کے قریب لیگ آف نیشنز (اقوام متحدہ کے قیام سے قبل بین الاقوامی تنظیم) نے ایک اجلاس منعقد کیا جس کے دوران پاسپورٹ کے لیے معیاری ہدایات جاری کی گئیں جو اُن معیارات سے کافی حد تک ملتی ہیں جن پر آج انحصار کیا جا رہا ہے۔