تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو حالیہ دور کے پاسپورٹ سے ملتی جلتی دستاویز کا سب سے پہلا تذکرہ 450 قبل مسیح کے قریب ملتا ہے جب فارسی سلطنت کے شہنشاہ ارد شیر اوّل نے اپنے وزیر اور معاون نحمیا کو سوشہ شہر سے کوچ کر کے جنوبی فلسطین کے علاقے یہودیہ کا رخ کرنے کی اجازت دی۔
فارس کے شہنشاہ نے اپنے معاون کو ایک خط دیا تھا جس میں دریائے فرات کے دوسرے کنارے پر واقع علاقوں کے حکمرانوں سے درخواست کی گئی تھی کہ نحمیا کی نقل و حرکت کو آسان بنایا جائے۔
کئی پرانی دستاویزات کی بنیاد پر کہا جا سکتا ہے کہ پاسپورٹ کا لفظ قرونِ وسطی سے وابستہ ہے۔ اُس زمانے میں اجنبی افراد کو شہروں کے درمیان آزادانہ نقل و حرکت کے لیے مقامی حکام سے ایک اجازت نامے کی ضرورت ہوتی تھی۔ یہاں تک کہ ساحلی شہروں میں بھی بندرگاہوں میں داخلے کے وقت ملتی جلتی دستاویزات طلب کی جاتی تھیں۔
اکثر تاریخی ذرائع کے نزدیک برطانیہ کا بادشاہ ہنری پنجم وہ پہلی شخصیت ہے جس نے ہم عصر پاسپورٹ سے ملتی جلتی دستاویز پر انحصار کیا۔ برطانیہ کے بادشاہ نے 1414ء میں جاری آیک آرڈیننس (Safe Conducts Act 1414) کے ذریعے غیر ملکی اراضی پر اپنے شہریوں کی نقل و حرکت کو محفوظ بنانے کی کوشش کی۔