اہم بات یہ ہے کہ لوگوں کی اس طرح تربیّت کی جائے کہ وہ خود عدالت و انصاف کو جاری کرنے والے بن جائیں اوراس راہ کواپنے قدموں سے طے کریں اور یہ اس وقت ہو سکتا ہے جب انسان اپنے اخلاق اور کردار میں عدل کو قائم کریں جب تک انسان اپنے اخلاق اور کردار میں عدل کو قائم نہیں کریگا اس وقت تک وہ معاشرے میں عدل کو قائم نہیں کرسکتا۔
رسول اکرم نے مکہ کی سرزمیں پر مذہب کے نام پر استحصال کی مخالفت کی اورتوحید کا پیغام دیا، اقتصادی اور سماجی برابری کا درس دیا اور کسی بھی طرح کی ملامت کی پرواہ نہیں کی۔ نوع انسانی کے درمیان اتحاد کا قیام رسول اللہ کی تحریک کا خاصہ تھا۔