سال 2008ء میں ایک پریس کانفرنس کے دوران امریکی صدر جارج ڈبلیو بش پر جوتا پھینکنے والے عراقی صحافی منتظر الزیدی نے عراقی پارلیمنٹ کے انتخابات میں حصہ لینے کا فیصلہ کیا ہے۔
العربیہ ٹی وی کے نمائندے سے گفتگو کرتے ہوئے الزیدی نے امریکی صدر پر جوتا اچھالنے کے واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ “وہ دنیا کے لوگوں اور صدر بش کو یہ پیغام دینا چاہتے تھے کہ عراقی عوام اس امریکی تسلط کو قبول نہیں کرتے ہیں اور وہ غدار نہیں ہیں۔”
چالیس سالہ منتظر نے مقتدیٰ الصدر کے حمایت یافتہ امیدواران کی لسٹ میں اپنا نام شامل ہونے پر کہنا تھا کہ ان کا ماننا ہے کہ یہ لسٹ عراق کے مختلف طبقات کی نمائندگی کرتی ہے جس کی وجہ سے انہوں نے اس لسٹ میں شمولیت اختیار کی ہے۔
سوال: آپ کے نزدیک 14 دسمبر کی تاریخ کی کیا اہمیت ہے؟
منتظر الزیدی: یہ تاریخ ظالم طاقتوں کی جانب سے ایک ملک پر قبضے اور اس کی انتظامیہ اور ذخائر پر شب خون مارنے کے خلاف مظلوم عوام کی للکار کی نشانی ہے۔
سوال: اگر موجودہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بغداد آئے تو کیا ان کے ساتھ بھی آپ جارج بش والا رویہ ہی رکھیں گے؟

















/odishatv/media/media_files/2026/04/19/billionaire-entrepreneur-2026-04-19-23-55-02.jpg)


