انہوں نے کہا وہ اس معاملہ کو اب عدالت میں لے جائیں گے ۔ان کا دعویٰ ہے کہ بھاسکر داس نے ان کے نام کی وصیت کی تھی،اس پر عملدرآمد کیا جانا چاہئے ۔قابل غور ہے کہ الہ آباد ہائی کورٹ کی لکھنو ¿ اسپیشل بنچ نے 30ستمبر2010کو اپنے فیصلہ میں متنازع بابری مسجد/ رام جنم بھومی کی زمین کو تین حصوں میں تقسیم کیا تھا۔اس میں ایک حصہ نرموہی اکھاڑے کو دیئے جانے کا حکم تھا۔یہ معاملہ فی الوقت سپریم کورٹ میں زیر التوا ہے ۔



















