بلیک ہولز اور وورم ہولز کے ذریعے دوسری کائناتوں کا سراغ پالینے والے ہاکنگ شاید کافی عرصے پہلے یہ ادراک کرچکے تھے کہ سائنس کی یہ نازک سی ڈوری بھی اب ٹوٹنے کے درپے ہے۔ مگر گزشتہ 55 برس سے ایک الیکٹرک وہیل چیئر پر محدود یہ باہمت اور عظیم انسان موت سے شکست تسلیم کرکے بھی ہارا نہیں۔ وہ آج بھی اپنے علم اور غیر معمولی صلاحیتوں کے ساتھ ہم میں موجود تجسس اور کھوج کی نئی شمعیں روشن کررہا ہے۔
اس کتاب کا دیباچہ ایڈی رائڈ مور نے لکھا ہے جنہوں نے اسٹیفن ہاکنگ کی زندگی پر بننے والی فلم میں ان کا کردار بڑی مہارت سے ادا کیا تھا۔ کتاب کے آغاز میں معروف ماہرِ فلکیات پروفیسر کپس ایس تھرون نے اس کا تعارف بھی پیش کیا ہے۔ پروفیسر کپس کا اسٹیفن ہاکنگ کے ساتھ دیرینہ تعلق تقریباً نصف صدی سے زائد عرصے پر محیط ہے اور بلیک ہولز پر ہاکنگ کی تمام تر تحقیق اور قوانین میں کپس ان کے شانہ بشانہ رہے۔ اپنے تعارف میں پروفیسر کپس نے بلیک ہولز، گریوی ٹیشنل ویوز اور لیگو پراجیکٹ کا زیادہ ذکر کیا ہے۔
کتاب ’بڑے سوالات کے مختصر جوابات‘ کا آغاز اس سوال سے ہوتا ہے کہ ہمیں یہ سوالات کیوں پوچھنے چاہئیں۔ انسانی ذہن ایک مشین کی طرح ہے جس میں لاتعداد خیالات آتے رہتے ہیں، جنہیں دماغی خبط یا خلل سمجھ کر نظر انداز کرنے کے بجائے انہیں کھوجنا ضروری ہے۔ آج کا انسان ٹیکنالوجی کی انتہا پر پہنچ چکا ہے اور نصف صدی پہلے تک جو سائنس فکشن کے تصورات ہم اسٹار ٹریک یا اسٹار وارز میں دیکھا کرتے تھے وہ آج حقیقت کا روپ دھارے ہمارے سامنے موجود ہیں اور بعید نہیں کہ مریخ پر انسانی کالونیاں اور خلائی مخلوق کے سراغ کے جو خیالات آج ہمیں دیوانے کی بَڑ معلوم ہوتے ہیں وہ اگلے 50 برس میں ممکنات میں ڈھل چکے ہوں۔
ہاکنگ ساری زندگی نہ صرف انہی بنیادی سوالات کے جوابات کی کھوج میں لگے رہے بلکہ اپنی غیر معمولی ذہانت اور حسِ مزاح سے عوام و خواص میں بھی اسی تجسس کی لُو کو بڑھکاتے رہے۔ اس کی ابتدا انہوں نے اپنی اولاد سے کی اور اپنے تینوں بچوں رابرٹ، لوسی اور ٹموتھی کو سکھایا کہ اگرچہ ہم جسمانی طور پر اپنی اپنی زندگی کے جھمیلوں میں بُری طرح الجھے ہوئے ہیں مگر اس پوری کائنات کو کھنگالنے کے لیے ہماری سوچ آزاد ہے اور اس سوچ کی بلند پرواز کے ذریعے ہم وہاں تک جاسکتے ہیں جہاں پہنچنے سے اسٹار ٹریک بھی خوفزدہ ہے۔
















/odishatv/media/media_files/2026/04/19/billionaire-entrepreneur-2026-04-19-23-55-02.jpg)


