تاہم اٹلی کی ٹیورن یونیورسٹی کے ماہرین نے نئے ریڈار سکینز کی مدد سے اب یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ وہاں کچھ نہیں اور وہ اپنے نتائج کے بارے میں پراعتماد ہیں۔
اس تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ ڈاکٹر فرانسیسکو پورسیلی کا کہنا ہے کہ ’اگرچہ یہ مایوس کن ہے کہ طوطن خامن کے مقبرے کی دیواروں کے پیچھے کچھ نہیں ہے لیکن دوسری جانب یہ بہتر سائنس ہے۔‘
مصر کی آثارِ قدیمہ اور نوادر کی وزات کے سربراہ خالد العنانی نے کہا ہے کہ حکام اس تحقیق کے نتائج کو تسلیم کرتے ہیں۔



















