اس کمرے کی تلاش کا آغاز اس وقت ہوا تھا جب انگریز ماہرِ آثارِ قدیمہ نکولس ریوز نے طوطن خامن کے مقبرے کے سکینز کا جائزہ لیتے ہوئے دروازوں کے مبہم نشانات کا اندازہ لگایا تھا۔
2015 میں شائع ہونے والے اپنے مقابلے ’نیفرتیتی کی تدفین‘ میں انھوں نے کہا تھا کہ یہ نسبتاً چھوٹا مقبرہ ملکہ نیفرتیتی کے لیے بنایا گیا تھا اور ممکن ہے کہ ان کی باقیات وہاں موجود ہوں۔
خیال رہے کہ نیفرتیتی کی باقیات آج تک نہیں مل سکیں اور ان کا تین ہزار سال قدیم مجسمہ انھیں قدیم مصر کی سب سے جانی پہچانی خاتون بناتا ہے۔



















