مولوی عمر فاروق نے سری نگر کے تاریخی عیدگاہ میں نماز عید ادا کی۔ انہوں نے نماز عید سے قبل نمازیوں کے ایک بھاری اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عدالت، پارلیمان اور اسمبلی جموں وکشمیر کے سٹیٹ سبجیکٹ قانون کے ساتھ کسی قسم کی چھیڑ چھاڑ نہیں کرسکتی۔
ان کا کہنا تھا ‘جموں وکشمیر جو سٹیٹ سبجیکٹ قانون ہے ، یہ قانون کوئی نیا قانون نہیں ہے ، یہ سنہ 1927 کا قانون ہے ۔ اس قانون کے ساتھ کوئی عدالت، کوئی پارلیمنٹ اور کوئی اسمبلی چھیڑ چھاڑ نہیں کرسکتی۔ جب تک یہاں کے لوگوں کو استصواب رائے کا حق نہیں دیا جاتا ہے تب تک یہ قانون جاری رہے گا’۔ میرواعظ نے کہا کہ اہلیان جموں وکشمیر مسئلہ کشمیر کی ہیئت کو تبدیل نہیں ہونے دیں گے ۔
جموں میں عید الضحیٰ کا تہوار مذہبی جوش وخروش کے ساتھ منایا جارہا ہے ۔اس دوران پورے جموں میں روح پرور تقاریب منعقد ہوئیں۔صوبہ کی سب سے بڑی تقریب مرکزی عیدگاہ واقع ریذیڈنسی روڈ جموں پر ہوئی جہاں پر ہزاروں کی تعداد میں فرزندان توحید نے سربسجود ہوکر دو رکعت نماز عید ادا کی۔اس کے علاوہ خطہ کی دیگر مرکزی عیدگاہوں، مساجد میں نماز عید ادا کی گئی۔خطبہ عید میں علماء ومفتیان نے سنت ابراہیمی کے اغراض ومقاصد پر مفصل روشنی ڈالی۔انہوں نے تلقین کی کہ غربا، مساکین، یتیم لوگوں کا اس دن پر خاص خیال رکھاجائے ۔ نماز عید کے بعد قربانی دینے کا عمل جاری ہے ۔