تہران: ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ گزشتہ تین روز میں جاری پُر تشدد مظاہروں کے دوران دارالحکومت تہران سے اب تک 450 افراد کو گرفتار کیا
جاچکا ہے۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق تہران کے گورنر ہاؤس کے ڈپٹی علی اصغر نصیربخت نے اِلنا نوز ایجنسی سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ ہفتے (30 دسمبر 2017) کو 200، اتوار (31 دسمبر 2017) کو 150 جبکہ پیر (یکم جنوری 2018) کو 100 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ تہران میں گزشتہ ہفتے کے مقابلے میں صوتحال انتہائی اطمینان بخش ہے، جس میں گزشتہ روز مزید بہتری آئی ہے۔
ڈپٹی گورنر کا مزید کہنا تھا کہ اب تک پاسدارانِ انقلاب کو دارالحکومت میں مداخلت کرنے کی درخواست نہیں کی گئی۔
خیال رہے کہ گزشتہ برس 28 دسمبر کو شروع ہونے والے مظاہروں کی شدت تہران میں دیگر شہروں میں ہونے والے حکومت مخالف مظاہروں سے کم دکھائی دیتی ہے۔
مزید پڑھیں: ایران: پُرتشدد مظاہرے، پولیس کے ساتھ جھڑپ میں 2 افراد ہلاک
ادھر پاسدارانِ انقلاب کے ایک مقامی ڈپٹی کمانڈر اسمٰعیل کووساری نے سرکاری ٹیلی ویژن سے بات چیت کرتے ہوئے کہا ’ہم تہران میں عدم استحکام کو جاری رکھنے کی اجازت نہیں دیں گے، اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو اعلیٰ حکام اس معاملے کو ختم کرنے کا فیصلہ کریں گے۔‘
ایرانی صدر حسن روحانی نے کی جانب سے گزشتہ روز ایک بیان سامنے آیا تھا جس میں انہوں نے اعتراف کیا تھا کہ ایران کا سب سے بڑا مسئلہ بے روزگاری ہے اور ایرانی معیشت میں آپریشن کی ضرورت ہے جس کے لیے پورے ملک کو مل کر کھڑے ہونا ہوگا۔
ایرانی صدر نے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ ایرانی حکومتی حلقے ملک میں لوگوں کو تنقید کرنے کے لیے ماحول فراہم کرتے ہیں تاہم مظاہرین کو خبردار کیا تھا کہ پُر تشدد کارروائیاں قابلِ قبول نہیں ہیں۔



















