واضح رہے کہ شوکت رضا شوکت عراق میں عشرہ محرم کی مجالس پڑھنے پہنچے ہوئے تھے جہاں مسلسل توہین اہلیبت اور عقائد تشیع کے برخلاف غالیت کی تبلیغ کررہے تھے اور نجف اشرف میں بھی جب ان پر الزامات لگے تو وہ کربلا چلے گئے جہاں امام حسین علیہ سلام کے حرم کی انتظامیہ نے فوری ایکشن لیتے ہوئے انہیں عراق بدر کرنے کا حکم دیا ہے۔
اس واقعہ کے بعد ملت جعفریہ پاکستان بھی ایسے غالی ذاکرین اور خطباٗ سے ہوشیار رہیں جنہیں حرم امام حسین علیہ سلام نے بھی قبول نہیں کیا اور جو شیعیت کے لبادے میں چھپ کر اہلیبت علیہ سلام کےتعلیمات کو مسخ کررہے ہیں۔
Pages: 1 2


















