ہاکنگ کہتے ہیں عین ممکن ہے کہ ہم سے پہلے کسی اور سیارے پر موجود حیات بھی اسی طرح فنا ہوگئی ہو یا آج بھی کہیں ہم سے زیادہ ترقی یافتہ مخلوق بستی ہو مگر ان کی تحقیق کا نچوڑ یہ ہے کہ زندگی مکمل تباہی کے بعد بھی از خود نمو کی صلاحیت رکھتی ہے۔
صدیوں سے انسان کی سماجی و معاشرتی زندگی میں یہ سوال ہلچل مچاتا رہا ہے کہ کیا مستقبل کے متعلق درست پیش گوئی ممکن ہے؟ اسٹیفن ہاکنگ نے اگلے باب میں بہت ہی اختصار کے ساتھ ایسٹرولوجی کی بحثوں میں پڑے بغیر کوانٹم و کلاسیکل فزکس کے قوانین کے مطابق اس کا سیدھا سا جواب یہ دیا ہے کہ ایسا ممکن نہیں ہے، اگرچہ طبیعات کی قوانین کے ذریعے مستقبل کو جانا جاسکتا ہے مگر یہ اعداد و شمار انتہائی مشکل ہیں اور نتائج تب بھی غیر یقینی ہوں گے۔ طبیعات میں غیر یقینیت کا قانون اس امر پر بضد ہے کہ کسی شے یا جسم کے مقام یا رفتار سے متعلق درست پیش گوئی کی جاسکتی ہے مگر ہاکنگ کے مطابق یہ اصول بلیک ہولز پر لاگو نہیں کیا جاسکتا۔ کسی بلیک ہول میں سنگولیرٹی ایک ایسا مقام ہے جہاں اس کی کثافت لامتناہی ہوتی ہے اور صرف اس مقام پر ہی مستقبل سے متعلق پیش گوئی کی جاسکتی ہے۔
5ویں باب میں ہاکنگ نے نصف صدی سے زائد عرصے میں بلیک ہولز پر اپنی تحقیقات کا نچوڑ پیش کیا ہے کہ بلیک ہولز سائنس فکشن ناولوں اور فلموں میں پیش کیے جانے والے عام تصور سے کہیں زیادہ پیچیدہ اور گنجلک ہے اور اس میں چلی جانے والی کسی بھی شے کا سالم نکل آنا ممکن نہیں ہے۔ لیکن اگر وہ بہت زیادہ ماس والا بلیک ہول ہو تو خلا باز بلیک ہول کے مقام ایونٹ ہوریزن سے سلامت نکل جائے گا مگر سنگولیرٹی پر بچ نکلنا پھر بھی ممکن نہیں ہوگا۔
لہٰذا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر کسی بلیک ہول سے زندہ نکلنا ممکن نہیں ہے تو وورم ہول تک رسائی اور پھر دوسری کائنات میں داخلہ کیونکر ممکن ہوگا اور کیا ٹائم ٹریول اب بھی محض سائنس فکشن کا تصور ہے؟ ہاکنگ کے مطابق اس سوال کا جواب تلاش کرتے ہوئے ہمیں یہ بات ذہن میں رکھنی ہوگی کہ آج کا سائنس فکشن مستقبل کی سائنس خصوصاً طبیعات و فلکیات میں نئی تحقیق اور پیش رفت کی منزل ہرگز نہیں ہے۔ طبیعات کہتا ہے کہ اگر آئن اسٹائن کا بنیادی نظریۂ اضافیت درست ہے اور کائنات کی انرجی ڈینسیٹی مثبت ہے تو وقت میں سفر کسی صورت ممکن نہیں مگر ہمیں مستقبل میں کسی نئے قانون اور بڑی پیش رفت کی توقع ضرور رکھنی چاہیے۔
لیکن اگر وقت میں سفر ممکن نہیں ہے تو اگلا سوال ذہن میں آتا ہے کہ خلا میں انسانی مستقبل کیا ہے اور مریخ یا کسی دوسرے سیارے پر انسانی آبادی کاری ممکن ہوسکے گی؟ اسٹیفن ہاکنگ کے مطابق اگلے 50 برس میں ہم اپنے نظامِ شمسی میں کہیں بھی باآسانی آنے جانے کے قابل ہوں گے اور ممکن ہے اگلے ایک سو برس تک کسی نئے نظامِ شمسی پر بھی کمندیں ڈال چکے ہوں مگر یہ اسٹار ٹریک کی طرح تیز رفتار نہیں ہوگا اور ایک سفر کے لیے 10 برس درکار ہوں گے۔
کتاب کے آخری 2 ابواب ہماری زندگیوں میں مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے اثرات اور انسانی مستقبل سے متعلق ہیں۔ اسٹیفن ہاکنگ ہمیشہ اس امر پر زور دیتے رہے تھے کہ حد سے بڑھتا ہوا یہ استعمال ناصرف ہماری سماجی و معاشرتی نظام کے لیے نقصاندہ ہے بلکہ یہ آہستہ آہستہ ہمیں مفلوج اور مشینوں کا محتاج بنا رہا ہے اور اگر بروقت سمت درست نہیں کی گئی تو کچھ ہی عرصے میں انسانیت اس مقام پر کھڑی ہوگی جس کے پار محض ہلاکت ہے۔
طبیعات و فلکیات کے شیدائیوں کے لیے ہاکنگ کی یہ آخری کتاب ایک انمول تحفہ ہے جس میں غیر ضروری طوالت میں پڑے بغیر ان کے ذہن میں چکراتے بڑے سوالات کے بہت اختصار اور سہل انداز میں جواب دیے گئے ہیں۔ ہاکنگ کی بیٹی لوسی کے مطابق کمیونیکیشن (رابطہ) ہمارے والد کی زندگی کا ایک انتہائی اہم حصہ رہا ہے اور اس آخری کتاب میں ان کے خیالات، منتشر سوچوں، قوانین و تحقیقات کو انتہائی خوبصورتی کے ساتھ یکجا کیا گیا ہے جس میں ان کی مخصوص حسِ مزاح کا عکس بھی جھلکتا نظر آتا ہے۔