ہیملٹ نے کہا تھا کہ اگر مجھے کسی چھوٹے سے خول میں بھی بند کردیا جائے تب بھی میں خود کو اس لامحدود خلا کا بادشاہ محسوس کروں گا۔ ہیملٹ کی طرح صدیوں سے انسان خود کو اس کائنات کا بادشاہ تصور کرتا آیا ہے۔ زمانۂ قدیم سے افریقی قبائل اور دیگر تہذیبوں میں اس طرح کے ماورائی قصے اور کہانیاں گردش کرتی رہی ہیں کہ خدا نے (جو ہر داستان میں ایک نئے روپ میں ہوتا ہے) کائنات کو محض انسان کے لیے تخلیق کیا۔ یہ دونوں ابواب کسی حد تک ہاکنگ کی 2010ء میں شایع ہونے والی کتاب ‘دی گرینڈ ڈیزائن’ کا خلاصہ معلوم ہوتے ہیں، جس میں انہوں نے خدا کے وجود اور کائنات کی تخلیق میں کسی ماورائی ہستی کے کردار پر تفصیل سے لکھا تھا۔
کتاب میں جس تیسرے اہم سوال پر روشنی ڈالی گئی ہے اس نے فی زمانہ امریکی تحقیقاتی خلائی ادارے ناسا سے لے کر سائنس میں معمولی دلچسپی رکھنے والے افراد کے ذہن کو بھی گھن چکر بنایا دیا کہ آیا انسان ہی اس کائنات کی واحد ذہین مخلوق ہے یا پھر کہیں کسی اور سیارے، ڈوارف پلینٹ یا کسی چاند پر خلائی مخلوق آباد تھیں یا اب بھی آباد ہیں؟
اس مشکل ترین سوال کا جواب ہاکنگ نے طبیعات کے قوانین کی صورت میں دیا ہے کہ کائنات وقت کے ساتھ مسلسل بڑھ رہی ہے اور اس میں زندہ حیات کو ایک آرڈرڈ سسٹم کے طور پر بیان کیا جاسکتا ہے، جو اس میں پیدا ہونے والے کسی خلل کے خلاف مزاحمت اور خود کو از سرِ نو پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ انسان کو دوسرے انسانوں سے خطرات اس وقت بھی لاحق تھے جب وہ غاروں میں رہا کرتا تھا مگر گزشتہ 300 برسوں میں انسان نے ٹیکنالوجی کے سفر میں جتنے سنگِ میل عبور کیے ہیں، اس کی وجہ سے زندگی سہل تو ہوئی مگر ساتھ ہی انسان ایک ایسے دو راہے پر آ کھڑا ہوگیا ہے کہ جہاں کوئی ایٹمی جنگ، ہولناک وائرس یا کرۂ ارض کے قدرتی ماحول میں بڑھتے عدم توازن کسی بھی وقت زمین سے زندگی کا نام و نشان مٹاسکتے ہیں۔