یہ حقیقت بھی سامنے آئی ہے کہ جن لوگوں نے جھوٹی خبریں پھیلائیں نمایاں حد تک “اُن کے فالوورز کی تعداد کم تھی، وہ خود بھی کم لوگوں کو فالو کر رہے تھے، ٹوئیٹر پر ان کی سرگرمیاں بڑی حد تک کم تھیں اور وہ ٹوئیٹر پر نمایاں طور پر قلیل عرصے سے سرگرم تھے”۔
واضح رہے کہ امریکی فیڈرل بیورو آف انویسٹی گیشن کے خصوصی تحقیقات کار روبرٹ ملر نے آخری امریکی صدارتی انتخابات میں روس کی مبینہ مداخلت کی تحقیقات کے دوران ٹوئیٹر پر “BOTS” کے نام سے سرگرم مشینی اکاؤنٹس پر توجہ مرکوز رکھی تھی۔ملر کے دفتر کے مطابق امریکی سیاسی نظام میں دراڑ ڈالنے کے لیے ان پروگراموں کا استعمال کیا گیا۔
یاد رہے کہ فروری کے اواخر میں ٹوئیٹر نے ایسے اقدامات کا سہارا لیا ہے جن کا مقصد سوشل میڈیا کے اس فورم پر مشینی پروگراموں کے اثر انداز ہونے پر روک لگانا ہے۔


















