وسیم رضوی ہوں یا روی شنکر اپنے طور پر جو چاہے کہہ لیں لیکن کیا عدالت عظمیٰ ان دونوں یا کسی ایک کو بھی اس مقدمہ میں فریق آخر کیوں تسلیم کرے گی اگر بابری مسجد 1949ء میں ایک شیعہ مسجد تھی تو آج تک شیعہ برادری شیعہ وقف بورڈ اور کوئی شیعہ عالم قائد یا دانشور کہاں تھے؟ اور کیوں خاموش تھے؟ روی شنکر کس حیثیت سے مقدمہ میں دخل انداز ہوسکتے ہیں ؟ یادرہے کہ کچھ ہی عرصہ قبل ڈاکٹر سبرامنیم سوامی کو اس مقدمہ میں فریق تسلیم نہیں کیا تھا اور بغیر عدالتی فیصلے اور اجازت کے بابری مسجد کی زمین پر مندر کی تعمیر شروع کرنا توہین عدالت ہے۔
بقول مولانا کلب جواد اپنے جرائم کی سزا سے بچنے کے لئے وسیم رضوی نے یہ کھیل شروع کیا ہے جو کامیاب نہیں ہوسکت اہے۔ شیعہ وقف بورڈ کا بابری مسجد سے کوئی تعلق نہ رہا ہے اور نہ ہی ہوسکتا ہے۔ اس لئے وسیم رضوی کی بھی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے۔ رہے روی شنکر تو وہ سرکار کے آدمی ہیں وہ بی جے پی اور ہندتوادی عناصر کے مفادات کا تحفظ کررہے ہیں وسیم رضوی بھی سرکاری آدمی ہیں ۔
اسی سے صاف ظاہر ہے کہ یہ بی جے پی حکومت اور مندر کمیٹی کی یہ مشترکہ سازش ہے تاکہ مقدمہ پر اثر ڈالا جائے اور سب سے بڑھ کر شیعہ سنی اختلافات پیدا کئے جائیں لیکن شیعہ فرقہ پر وسیم رضوی اور یعسوب عباس جیسے بھاجپائی ایجنٹوں کا کوئی اثر نہیں ہے اس لئے شیعہ سنی اختلافات کو ہوادینے اور تنازعات پیدا کرنے کی سازش بھی ناکام ہوچکی ہے۔



















