شیعہ برادری، اکابرین، علماء اور دانشور وسیم رضوی سے بالکل اتفاق نہیں کرتے ہیں ۔ دو معروف شیعہ عالم مولانا کلب صادق اور مولانا کلب جواد نے وسیم رضوی کی شدید مذمت کی ہے۔ مولانا کلب صداق نے بابری مسجد کی زمین کو مندر بنانے کے لئے حوالہ کرنے سے اتفاق نہیں کیا ہے۔ وہ اسے شیعہ برادری کی رائے نہیں مانتے ہیں بلکہ وسیم رضوی کیذاتی رائے کہتے ہیں اور جس طرح وسیم رضوی اپنی نچی رائے کو شیعہ فرقہ کی متفقہ اور اجتماعی رائے قرار دے رہے ہیں اس کی شدید مذمت کی ہے۔ اس کے بعد مولانا کلب جواد نے وسیم رضوی کے بیانات کو کے خلاف سی بی آئی کی کارروائیوں سے بچنے کی کوشش قرار دیا ہے۔
شیعہ وقف بورڈ کے صدرنشین کی حیثیت سے انہوں نے ہر قسم کی بدعنوانیاں کی ہیں ۔ شیعہ اوقاف کی جائیدادوں کا ناجائز استعمال کیا ہے۔ اس لئے رام مندر کی تعمیر کے سلسلہ میں وہ یوگی آدتیہ ناتھ اور ان کی حکومت مرکزی حکومت، بی جے پی اور آر ایس ایس کو خوش کرنے والے بیانات دے کر اپنی بدعنوانی اور کالے کرتوتوں کو چھپانے اور کسی سرکاری ادارہ کی اس سلسلے میں تحقیق اور تفتیش سے بچنا چاہتے ہیں ۔
مولانا کلب جواد کے بیانات میں کسی شک و شبہ کی گنجائش نہیں ہے کیونکہ بہت پہلے ہی وسیم رضوی پر بدعنوانی، رقمی خرد برد اور اوقافی جائیدادوں کی لوٹ کھسوٹ کے الزامات لگ چکے تھے۔ ظاہر ہے کہ خود کو بچانے کیلئے بدعنوان اور بے ایمان افراد کسی بھی حدتک جاسکتے ہیں ۔
وسیم رضوی کو حکومت اور پریوار کی مکمل حمایت حاصل ہے کیونکہ ان باتوں سے عدالت سے باہر بات چیت کی تجویز سپریم کورٹ نے پیش کی تھی۔ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ بات چیت کے تمام امکانات کو سابقہ تجربات کی روشنی میں مسترد کرکے عدالت کے فیصلے کا انتظار کرنے کا فیصلہ کرچکا ہے تاہم یوپی شیعہ بورڈ کی ایسی پیشکش سپریم کورٹ کی کارروائیوں پر اثر انداز ہونے کی کوشش ہے ان کی کوششوں کے سلسلے کی ایک کڑی سری سری روی شنکر (جو اب تک وسیم رضوی کی طرح بابری مسجد کے کسی بھی معاملے سے بہت دور رہے تھے) کی ثالثی کی کوشش اور وسیم رضوی سے ان کی بات چیت ہے۔