وسیم رضوی عوام اور حکومت کو گمراہ کررہے ہیں کہ ان کو ملک بھر کی شیعہ برادری کی نہ صرف نمائندگی کا حق ہے بلکہ شیعہ عوام کے وہ مسلمہ نمائندے ہیں اور بابری مسجد کی زمین کی ملکیت شیعوں کی ہے اس لئے وہ مسجد کی زمین کو شیعہ برادری کی طرف سے رام مندر کی تعمیر کیلئے دینے کے لئے تیار ہیں ! تاکہ یہ دیرینہ تنازعہ ختم ہوسکے۔
سب سے پہلے ہم واضح کردیں کہ یہ شخص نابکار وسیم رضوی جو کچھ بھی ہرزہ سرائی کررہا ہے وہ اپنی ذاتی حیثیت سے کررہا ہے (ویسے ہمارے متعدد شیعہ قارئین کا خیال ہے کہ وسیم رضوی کی ماسوائے سرکاری یا چند فروخت شدہ بے ضمیر غدار ان ملت کے حلقوں کے کہیں کوئی حیثیت ہی نہیں ہے) شیعہ عوام و خواص کا ان سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ وسیم رضوی غالباً پہلا شیعہ ہے جس نے عامتہ المسلمین کے بابری مسجد کے بارے میں متحدہ اور مضبوط موقف سے انحراف کیا ہے۔ ویسے مسلم راشٹریہ منچ کے نام نہاد مسلمانوں اور مختار نقوی اور شاہنواز حسین اور نجمہ ہبت اللہ کو آپ مسلمان سمجھتے ہوں تو آپ کی مرضی!



















