انہوں نے اپنے گھر سے بے دخل کئے گئے حسن غالب کی مثال دیتے ہوئے بتایا کہ وہ گزشتہ 20سال سے ٹیچنگ لائن میں ہیں اور اپنے چار ممبران پر مشتمل کنبہ کے تنہا کمانے والے ہیں۔
ان کو کھانے اور اپنی بیماربہن کے علاج کیلئے اپنے گھر کا فرنیچر فروخت کرنا پڑا۔مشرق وسطیٰ و شمالی افریقہ خطہ کے ریجنل ڈائرکٹر گیرٹ کیپیلیئر نے سوال کیا کہ وہ اپنی ضرورتیں کیسے پوری کرسکتے ہیں۔انہوں نے واضح کیا کہ جنگ زدہ ملک میں تقریباً ایک لاکھ 66ہزار ٹیچرز ان ہی حالات سے دوچار ہیں۔



















