سائنسدان کہتے ہیں کہ کائنات کا یہ ابتدائی ‘تبرک’ (نیا دریافت شدہ بلیک ہول) کہکشاں کے وسط میں مواد کو نگل جاتا ہے ۔ اسی لیے یہ ‘تقریباً ستارہ نما’ ہے اور ایسے اجرام جیسا ہے جن کا مرکز توانائی سے بھرپور ہو اور جو روشنی کا منبع ہوں۔
سائنسدان کہتے ہیں کہ کائنات کا یہ ابتدائی ‘تبرک’ (نیا دریافت شدہ بلیک ہول) کہکشاں کے وسط میں مواد کو نگل جاتا ہے ۔ اسی لیے یہ ‘تقریباً ستارہ نما’ ہے اور ایسے اجرام جیسا ہے جن کا مرکز توانائی سے بھرپور ہو اور جو روشنی کا منبع ہوں۔
Copyright © Shahernama - All Rights Reserved