بدنظمی پر ناراض لیلاوتی صرف اتنا ہی کہہ سکیں کہ ووٹنگ بوتھ اتنی دور نہیں ہونا چاہئے تھا۔ طبیعت خراب ہونے پر ان کے بیٹے نے انہیں کرسی پر بٹھاکر پانی پلایا اور کچھ دیر آرام کے بعد وہ واپس گھر جاسکیں۔
اسی طرح کی صورتحال ۸۰ سالہ کنیز فاطمہ کو بھی پیش آئی۔ وہ اپنے بیٹے، بہو اور بیٹی کے سہارے پولنگ مرکز تک پہنچیں۔ بدحال نظام کو دیکھ کرانہوںنے ناراضگی ظاہر کی اور کہا کہ حکومت کو کم سے کم ایسے مواقع پر تو انتظامات کو چاق و چوبند رکھنا چاہئے۔