اس موقع پر مولانا کلب جواد نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تمام مذاہب کے مقدس مقامات ایسے ہیں جہاں اسی مذہب کے لوگ جا سکتے ہیں لیکن امام باڑے اور خانقاہیں ایسی محترم ہیں جہاں پر ہر مذہب کا آدمی مل جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر مسلمانوں کے تمام مسالک متحد ہو جائیں تو ان کی مثال سمندر کی طرح بن جائے گی۔ جیسے کئی ندیاں ملک کر سمند بنتا ہے اور اس کا مقابلہ کوئی نہیں کرسکتا۔
انہوں نے مسلمانوں کے تمام فرقوں اور مسالک کے لوگوں سے باہمی تنازعات بالائے طاق رکھ کر متحد ہونے کی اپیل کی۔ اجلاس میں مولانا نے دس نکاتی تجویز بھی پٖڑھ کر سنائی جس کی موجود لوگوں نے ہم آواز ہوکر حمایت کی۔ تجاویز میں عراق میں دہشت گردوں کے ذریعہ قتل کئے گئے ۳۹ ہندوستانیوں کے قتل کی سخت الفاظ میں مذمت کی گئی ہے۔
اس کے علاوہ شیعہ اور صوفیوں کو آبادی کے لحاظ سے مرکزی اور ریاستی حکومتوں کے محکموں میں نمائندگی دینے، بے گناہوں کے قتل کی مذمت، وقف املاک کا تحفظ اور اس میں بدعنوانیوں کی جانچ کے ساتھ ہی شیعہ وقف بورڈ چیئر مین اور اراکین کے مجرمانہ افعال کی جانچ کرانے، تعلیمی اور اقتصادی پسماندگی کو دو کرنے کیلئے خصوصی پیکیج اور سعودی عرب میں منہدم کئے گئے مذہبی مقدس مقامات اور مزارات کی دوبارہ تعمیر کے مطالبات بھی شامل ہیں۔