وادی میں بدھ کے روز عیدالاضحی کے پیش نظر ریل سروس معطل رہی جبکہ معطلی کا یہ سلسلہ جمعہ کے روز تک جاری رہ سکتا ہے ۔ سرکاری ذرائع نے بتایا کہ تشدد کے اکا دکا واقعات کو چھوڑ کر وادی کے بیشتر علاقوں میں نماز عیدین کے اجتماعات پرامن طور پر اختتام کو پہنچے ۔ موصولہ اطلاعات کے مطابق عیدالاضحی یا عید قربان کے اس سلسلے میں وادی کے طول وعرض کی مساجد، عیدگاہوں اور امام بارگاہوں میں عیدین کی دوگانہ نماز کے روح پرور اجتماعات منعقد ہوئے ۔
عیدالاضحی کے ان روح پرور اجتماعات میں وادی میں مکمل امن وامان کی بحالی، ترقی اور خوشحالی کے لئے خصوصی دعائیں مانگی گئیں۔ نماز عید کی ادائیگی کے بعد وادی کے تقریباً تمام علاقوں میں سٹیٹ سبجیکٹ قانون (آئین ہند کی دفعہ 35 اے ) کے خلاف ہورہی مبینہ سازشوں کے خلاف احتجاج کیا گیا۔
بتادیں کہ مشترکہ مزاحمتی قیادت سید علی شاہ گیلانی ، میرواعظ مولوی محمد عمر فاروق اور محمد یاسین ملک نے اپنے ایک مشترکہ بیان میں علمائے کرام اور ائمہ مساجد اور تمام ملی اور دینی اداروں کے ذمہ داروں پر زور دیا تھا کہ وہ عید الاضحی کے خطبات میں عوام الناس کو ان کی دینی اور سماجی ذمہ داریوں کا احساس دلانے کے ساتھ ساتھ ا سٹیٹ سبجیکٹ قانون کے دفاع کے پس منظر سے آگاہ کرنے کے علاوہ جموں وکشمیر اور بھارت کی مختلف ریاست کی جیلوں میں سالہا سال سے ایام اسیری کاٹ رہے کشمیری سیاسی نظر بندوں کی حالت زار کے خلاف صدائے احتجاج بلند کریں۔