چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ نے ریمارکس دیئے کہ حکومت اور پولیس تسلیم کر لے کہ انھوں نے غفلت دکھائی، آپ کی تفتیش 2015 میں شروع ہو جانی چاہیے تھی، جو کچھ آپ اب کررہے ہیں وہ پہلے کیا ہوتا تو زینب کا واقعہ نہ ہوتا۔
پنجاب حکومت اور پولیس غیرسنجیدہ ہے۔ آئی جی پنجاب 17جنوری کو مکمل ریکارڈ کے ساتھ پیش ہوں۔ کیس کی مزید سماعت بدھ کو ہوگی۔