جس پر انہوں نے بتایا کہ قصور میں بچوں کے ساتھ زیادتی کا پہلا واقعہ جون 2015 میں ہوا، اس وقت بھی میں ہی جے آئی ٹی کا سربراہ تھا۔ اس قسم کے واقعات میں سیریل کلر ملوث ہے اور اس کی گرفتاری کے لیے تفتیش جاری ہے۔
جسٹس صداقت علی خان نے ریمارکس دیئے کہ عدالت نے 36 گھنٹے کی مہلت دی تھی لیکن ملزم گرفتار نہیں ہوا، آپ صرف ڈی این اے کی رپورٹ کا انتظار نہ کریں، آپ کے پاس ملزم کو گرفتار کرنےکے لیے بے شمار طریقے ہیں سنجیدگی کا مظاہرہ کریں اور ملزم کو جلد گرفتار کریں۔














/odishatv/media/media_files/2026/04/19/billionaire-entrepreneur-2026-04-19-23-55-02.jpg)


