سعودی عرب میں گزشتہ کچھ سالوں میں رجحان میں بڑی تبدیلی دیکھنے میں آئی ہے، سال 2016 میں سعودی خواتین کو دارالحکومت ریاض میں سڑکوں پر عبایا اتارنے پر حراست میں لے لیا گیا تھا، مقامی ذرائع ابلاغ نے رپورٹ کیا تھا کہ اس خاتون کو مذہبی پولیس کے پاس شکایات درج کرنے پر حراست میں لیا گیا تھا۔
دوسری جانب حالیہ دونوں میں سعودی ریاست میں خواتین کے حقوق کو بڑھا دیا گیا، جس کی مثال انہیں مخلوط کھیلوں کے مقابلوں میں حصہ لینے اور ڈرائیونگ کے اختیارات دینے سے ظاہر ہوتی ہے لیکن ان سب تبدیلیوں کے باوجود صنفی معاملات پر تقسیم قوم کی جانب سے خواتین پر رکاوٹیں لگانے کا سلسلہ اب بھی جاری ہے۔



















