س تناظر میں مصر کی قدیم جامعہ الازہر کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا کہ جنسی طور پر ہراساں کرنا ہر لحاظ سے غلط ہے، اور اس سلسلہ میں خواتین کے لباس یا رویوں کو جواز بنانے کو بھی مسترد کردیا۔
جامعہ الازہر کی جانب سے انگریزی میں جاری خصوصی بیان میں کہا گیا کہ الازہر میں سوشل میڈیا اور مقامی میڈیا میں جنسی طور پر ہراساں کیے جانے اور اس قسم کی حرکات کو روکنے والوں کےخلاف حملوں کے واقعات کے حوالے سے آنے والی رپورٹوں کا جائزہ لیا گیا۔
جامعہ الازہر نےاس بات پر زور دیا کہ ہراساں کرنے کو جرم قرار دیا جائے اور اس کا ارتکاب کرنے والوں کو بغیر کسی شرط اور تناظر میں مجرم قرار دیا جائے اور سخت سزا دی جائے۔
بیان میں ہراساں کئے جانے پر خواتین کو قصوروار ٹھہرانے کو بھی مسترد کرتے ہوئے کہا گیا کہ بدسلوکی پر مبنی رویہ خواتین کی حفاظت، آزادی اور انسانی وقار کے خلاف ہے۔
جامعہ ازہر کا مصر میں جنسی ہراساں کے خلاف سخت سزائیں دینے کا مطالبہ
Pages: 1 2


















