نئی دہلی: سپریم کورٹ نے زیادہ تر عوامی بہبود کی اسکیموں سے مستفید ہونے کے لئے آدھار کارڈ ضروری کرنے کے سرکار کے فیصلہ کو غلط قرار دیا ہے ۔چیف جسٹس نے جے ایس کیہر کی قیادت والی بنچ نے سرکار کو آدھار کارڈ کو لازمی بنانے کے خلاف دائر کی گئی عرضی پر یہ حکم دیا ۔

سپریم کورٹ نے کہا ”سرکار اپنی بہبود کی منصوبوں کا فائدہ دینے کے لئے آدھار کارڈ کو لازمی نہیں بناسکتی ہے ۔بنچ نے یہ واضح کیا ہے کہ بنک کھاتے کھولنے جیسی سرکار کی اسکیموں میں آدھار کا استعمال کرنے سے نہیں روکا جاسکتا۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ سرکار کی آدھار کو چیلنج کرنے سے نہیں روکا جاسکتا۔
سپریم کورٹ نے کہا کہ سرکار کی آدھار کو چیلنج کرنے والی عرضی کی سماعت کے لئے سات ججوں کی بنچ تشکیل دی جانی ہے مگر فی الحال ایسا ممکن نہیں ہے ۔چیف جسٹس نے کہا ”سماجی بہبود کے منصوبوں کے لئے آدھار کو لازمی نہیں بنایا جاسکتا مگر غیر مفید اسکیموں کے لئے آدھار کارڈ استعمال کیا جاسکتا ہے ۔ اس تعلق سے عدالت کا پہلے دیا گیا حکم پوری واضح اور انکم ٹیکس سمیت دیگر غیر فائدے مفید اسکیموں میں آدھار کو ضروری بنانے سے سرکار کو روکا نہیں جاسکتا۔قابل ڈکر ہے کہ سرکار نے کئی منصوبوں کا فائدہ اٹھانے کے لئے آدھار کو لازمی کردیا ہے ۔
مسٹر ارون جیٹلی نے کہا تھا کہ ملک میں 108 کروڑ لوگوں کے پاس آدھار کارڈ ہے ۔ جن سماجی فائدے کی اسکیموں کے لئے آدھار کو لازمی بنایا تھا اس میں کھانا پکانے کی گیس کی سبسڈی ۔ غذائی اجناس کی سبسڈی پسماندہ طبقات اور معذوروں کو ملنے والے وظیفہ شامل ہیں ۔


















