وہیں اس توپ کو چلانے کے لئے باقاعدہ ضلع انتظامیہ کی طرف سے مسلم تیوھار کمیٹی کو ایک ماہ کا لائسنس بھی جاری کیا جاتا ہے ۔ رمضان کے اختتام پر عید کے بعد توپ کی صفائی کر کے اسے سرکاری مال گودام میں جمع کر دیا جاتا ہے ۔ توپ چلانے والے پپو خاں نے بتایا کہ ان کا خاندان ہی برسوں سے توپ چلاتا آ رہا ہے ۔
وہ خود 15 سال سے توپ چلا رہا ہے ۔ توپ چلانے کے لئے آدھے گھنٹے پہلے تیاری کرنا پڑتی ہے ، تب کہیں جاکر وقت پر توپ کو چلانے کی تیاری مکمل ہو پاتی ہے ۔ رمضان میں وقت کی بڑی اہمیت ہوتی ہے ، لہذا اس کا پورا خیال رکھا جاتا ہے ۔ ماہ رمضان کے دوران ہندو مسلم فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی منفرد مثال بھی دیکھنے کو ملتی ہے ۔